کراچی(نیوزپلس) حکومت سندھ نے سانحہ بلدیہ فیکٹری ، نثار مورائی اور لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی جوائنٹ انویسٹی گیشن (جے آئی ٹی) رپورٹس پبلک کر دی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پبلک کی گئی جے آئی ٹی رپورٹس محکمہ داخلہ سندھ کی ویب سائٹ پر موجود ہیں، جیسے ہی تینوں جےآئی ٹی رپورٹس اپ لوڈ کی گئیں محکمہ داخلہ سندھ کی ویب سائٹ کا سرور ڈاؤن ہوگیا۔

عزیر بلوچ کی پبلک کی گئی جےآئی ٹی رپورٹ 36صفحات پر مشتمل ہے۔ جس میں عزیر بلوچ کے اہخانہ، حبیب جان، حبیب حسن، سیف علی، نور محمد سمیت درجنوں دوستوں کے نام شامل ہیں۔

جوائنٹ انویسٹی گیشن رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ نے 198  افرادکو قتل کرنےکا اعتراف کیا ہے، عزیر بلوچ نے یہ قتل لسانی اور گینگ وار تنازع میں کیے جب کہ اثر و رسوخ کی بنیاد پر عزیربلوچ نے 7ایس ایچ اوز تعینات کرائے،  اقبال بھٹی کو عزیر بلوچ نے  ٹی پی او لیاری تعینات کرایا اور 2019 میں محمدرئیسی کو ایڈمنسٹر لیاری لگوایا، ملزم متعدد پولیس اوررینجرزاہلکاروں کےقتل میں ملوث ہے۔

جےآئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم کےبیرون ملک فرار کے باوجود ماہانہ لاکھوں روپےبھتہ دوبئی بھیجاجاتارہا، 2008سے2013کے دوران مختلف ہتھیار خریدنے، پاکستان اور دبئی میں غیرقانونی اثاثوں کا انکشاف بھی کیا ہے۔

عزیربلوچ کی جےآئی ٹی میں اس کے16رکنی اسٹاف کا ذکر بھی ہے جو گینگ وار میں بلاواسطہ اور براہ راست ملوث تھا، عزیربلوچ کو2006میں ٹھٹھہ کےعلاقےچوہڑجمالی سےگرفتار کیا گیا، عزیربلوچ کو7کیسزمیں چالان کیاگیا اور 10ماہ جیل سے رہا ہوگیا۔

عزیربلوچ نے 10سےزائد کارندوں کو ایران ودیگرممالک بھجوانے، گینگسٹرز کو مدد دینے والےافسران کی تقرریاں کرانےکا اعتراف اور آپریشن میں اپنے استاد تاجو کو دوبئی پھر افریقہ منتقل کرانے کا اعتراف کیا۔

عزیربلوچ نے اسلحہ لالہ توکل اور سلیم پٹھان سےخرید کر ساتھیوں کو دینے اور ایران سےپیدائشی سرٹیفکیٹ، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ لینےکا اعتراف بھی کیا، ایران سےبوگس شناختی دستاویزات بنوانےمیں خاتون عائشہ نےساتھ دیا.

عزیربلوچ نے2009کےبعداسلحہ اپنےساتھیوں کودینےکااعتراف کیا، عزیربلوچ کی ہدایت پرگینگ کارندےمال بردار ٹرک لوٹتےتھے اور مال بردارٹرک فروخت کرنےکےبعد15لاکھ کاحصہ دیاجاتاتھا۔

جےآئی ٹی کی رپورٹ میں عزیربلوچ پر آرمی ایکٹ کے تحت جاسوسی کامقدمہ چلانے سمیت دیگر سفارشات کی گئی ہیں، عزیربلوچ نے غیرملکیوں کےلئے جاسوسی کی، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی اس لیے نشاندہی پر برآمداسلحہ اور بارودی مواد پر نیامقدمہ درج کیاجائے