شہباز شریف وزیر اعظم کیوں نہ بن سکے ؟

لاہور( نیوز پلس) تبدیلی نہ آتی تو اس وقت شہباز شریف وزیر اعظم پاکستان ہوتے ، سیاسی شطرنج پر بازی اچانک کیسے پلٹ جاتی ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور پاکستان مسلم لیگ ن کےصدر شہباز شریف نے نامور صحافی سہیل وڑائچ کو انٹرویو میں انکشاف کیا ۔

دورانِ انٹرویو صدر مسلم لیگ ن  شہباز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ 2018الیکشن سے ایک ماہ قبل تک طاقتور حلقوں سے ان کی  ملاقاتوں کے دوران  کابینہ کے نام تک فائنل ہو رہے تھے اور اس دوران دو نامور صحافی انہیں اگلا وزیراعظم بنانے کا پیغام لائے تھے۔

روزنامہ جنگ کو انٹرویو کے دوران شہباز شریف نے مزید بتایا کہ چوہدریوں اور ان کے تعلقات بالکل نیوٹرل ہو چکے ہیں جن میں اب کوئی تلخی نہیں لیکن فی الحال جوڑ توڑ یا سیاسی اتحاد کی کوئی بات نہیں ہوئی۔

شہباز شریف سے سوال کیا گیا کہ وہ کسی ڈیل کے تحت واپس آئے اور ان کے آنے کا مقصد کیا ہے تو انہوں نے بتایا شہباز شریف نے بتایا کہ جب کورونا وائرس کی وجہ سے فلائٹس بند ہونے کا اعلان سنا تو اس وقت لندن میں صبح کے 11 بجے تھے۔انہوں نے نواز شریف کو فون کیا میری رائے میں مجھے آج ہی پاکستان جانا چاہیے۔