صدر مسلم لیگ ن پنجاب رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ضمنی اور سینیٹ الیکشن کے بعد لانگ مارچ ہو گا اور لانگ مارچ حکومت کے مستعفی ہونے تک جاری رہے گا۔

نجی ٹی وی جیونیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا ایسا نہیں ہے کہ آنکھیں بند کر کے دریا میں چھلانگ لگا دیں۔ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ ہوا ہے کہ پہلے ضمنی اور سینیٹ الیکشن ہوں گے، پھر لانگ مارچ ہو گا اور لانگ مارچ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت مستعفی نہیں ہوتی۔

پیپلز پارٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو یہ موقف ہے کہ دھرنا نہیں دینا چاہیے۔لیکن اس بات پہ وہ لچک کا مظاہرہ بھی کر رہے ہیں۔جبکہ استعفوں کے آپشن پر پیپلز پارٹی آج بھی انکاری رہی ہے لیکن استعفے دینے کے متعلق پیپلز پارٹی جس وقت اور جن حالات میں دینے کی بات کرتی ہے وہ بات سیاسی طور پر درست ہے۔

جبکہ پیپلز پارٹی اس بات پر رضا مند تھی کہ استفے دینے سے الیکٹرورل کالج سینیٹ کا اگر بریک ہو جائے، سینیٹ نامکمل رہ جائے الیکشن رک جائے تو وہ استعفے دینے کیلئے تیار تھے۔ لیکن بعد میں جب میں نے اس پہ بات کی تو اس میں یہ بات نظر آرہی تھی کہ اس بات میں وزن ہے کہ الیکٹورل کالج استعفے دینے سے بریک نہیں ہوتا اور الیکشن نہیں رکتا۔

ایسی صورت میں پی ٹی آئی کو یا گورنمنٹ کو سینیٹ میں دوتہائی سے زیادہ اکثریت دینے کی صورت بنتی جو کم از کم چھ سال قائم رہتی۔تو ایسی حماقت اپوزیشن کو کسی صورت میں نہیں کرنی چاہیے۔

ان ہاؤس تبدیلی کے حوالے سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں رانا ثناءاللہ نے کہا کہ ان ہاؤس تبدیلی میں بھی کافی مشکلات ہیں۔آگے حالات کیا بنیں گے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔