نیو یارک ( نیوز پلس) کرونا وائرس کے باعث اس وقت لاکھوں لوگ اس سے متاثر ہیں اور کئی لوگوں کیلئے کرونا جان لیوا ثابت ہوا ہے ۔

لاکھوں انسانوں کی موت کا باعث کرونا وائرس انسانی جسم میں کیا خوفناک عمل کرتا ہے کہ  زندگی کو چراغ گل ہو جاتا ہے  امریکی طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے انتہائی نگہداشت  یونٹ میں دوران  علاج  مریضوں کا خون  جم جاتا ہے  جس سے ان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

ماہرین صحت نے کرونا مریضوں کے خون جم جانے کو خطرناک پراسرار پہلو قرار دیا ہے۔ کرونا جان لیوا ہونے کیساتھ ساتھ جسم پر کیا اثرات مرتب کر تا ہے اس حوالے سے  بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق  امریکی ماہرین  کا کہنا ہے کہ مریض کا خون جمنے کی صورت میں اُسے فالج،  دل کا دورہ (ہارٹ اٹیک) ، برین ہیمرج یا کوما میں جانے کے امکانات بہت زیادہ حد تک بڑھ جاتے ہیں۔

چین و یورپ کے متعدد ممالک سمیت امریکا میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل مریضوں میں بلڈ کلاٹ جمع ہونے کے واقعات میں حیران کن طور پر اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جس کی وجہ سے جسم میں خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور پھر مریض کی موت ہوجاتی ہے۔

نیویارک کے لینگون میڈیکل سینٹر کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں ڈیوٹی انجام دینے والی ڈاکٹر شری برانسن کا کہنا تھا کہ ’ کچھ ہی دنوں میں 40 سال کے عمر کے متعدد کرونا کے ایسے مریض دیکھے جن کا خون جم چکا تھا‘۔

ڈاکٹر شری  نے مزید  بتایا کہ ’ایسے مریضوں میں کینیڈین نژاد امریکی اداکار نک کورڈیرو بھی شامل ہیں، اُن کی ٹانگ میں خون جم گیا تھا جس کے بعد ڈاکٹروں نے پیر میں کٹ لگا کر خون کی روانی کو بحال کیا گیا ۔