یوٹیلٹی سٹورزکارپوریشن ،نجی ٹی وی نےکرپشن کا نیاسکینڈل بےنقاب کردیا

لاہور(نیوز پلس) یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن نے رمضان المبارک کیلئے کھجوروں کی خریداری کیلئے ٹینڈر دیا ہے ، ٹینڈر میں کھجوریں درآمد کرنے کیلئے دی گئی شرائط نے معاملے کو مشکوک بنادیا ہے ۔ چیرمین یوٹیلٹی سٹور ز کارپوریشن ذوالقرنین خان خود کھجوروں اور پیجنگ کےکاروبار سے وابستہ ہیں ، اور ایک ہزار ٹن کھجوروں کا ٹینڈر مبینہ طور پر انہیں ہی نوازنے کیلئے دیاگیا ہے ۔
تفصیلات کےمطابق نجی ٹی وی چینل  24 نیوز کے پروگرام 10 تک میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی جانب سے پندرہ اپریل کو ایک ہزار ٹن کھجوروں کی خریداری کیلئے ٹینڈر جاری کیا گیا۔

ٹینڈر میں خالص مقامی اور درآمدی کھجوروں کی خریداری کیلئے 30 اپریل تک پیشکش طلب کی گئیں ٹینڈر نوٹس کھلنے کی تاریخ پانچ مئی ہے ، یعنی اس وقت پاکستان میں گیارہ رمضان المبارک ہو گا۔

پروگرام کے اینکر ریحان طارق کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے کھجوریں پاکستان پہنچنے میں کم ازکم تین ہفتے درکار ہوں گے، ان تین ہفتوں کے دوران رمضان المبارک ختم ہوچکا ہوگا۔

یعنی کھجوریں یوٹیلٹی سٹورز میں رمضان المبارک کے بعد پہنچیں گی، پروگرام کے اینکر نے سوال اٹھایا کہ رمضان المبارک کے بعد کھجوروں کی خریداری کا اصل مقصد کیا ہے ؟ کیا اس خریداری کے پیچھے کسی مخصوص شخصیت ، یا کمپنی کو فائدہ پہنچانا مقصود ہے ؟ ٹینڈر نوٹس میں کھجوروں کی کرسٹل پیکنگ کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے ؟ کھجوروں کے تاجر کرسٹل پیکنگ کہاں سے کروائیں گے؟ کیا اس کا بھی مقصد پیکجنگ کی صنعت سے وابستہ افراد کو فائدہ پہنچانا ہے؟اینکر کےمطابق اس ٹینڈر میں کھجوریں امپورٹ کرنے کی گنجائش نکالی گئی ہے۔

کہیں یہ گنجائش کسی کو سہولت پہنچانے کے لیے تو نہیں ہے؟ اس کی تحقیقات ضرور ہونی چاہئیں، کیونکہ پاکستان میں اس طرح کی کھجوریں وافر مقدار میں موجود ہیں پھر امپورٹ کرنے کی گنجائش کیوں رکھی گئی ہے؟ حکومت یوٹیلیٹی اسٹورز کو سبسڈی بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سبسڈی دیتی ہے۔ کیا کھجور بنیادی ضروریات زندگی میں شامل ہے ؟اس سے بڑھ کر کیا سبسڈی کھجوریں امپورٹ کرنے کے لیے دی جاتی ہے؟

ریحان طارق کے مطابق یقیناً ایسا نہیں ہے حکومت سبسڈی پرتعیش اشیاء کے لیے ہرگز نہیں دیتی پھر یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن نے کیسے سبسڈی سے کھجوریں امپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے؟اینکر کے مطابق سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ طبقہ جو آٹا، دال، چینی سمیت دیگر چیزیں خریدتے ہوئے مشکل کا شکار ہوتا ہے وہ امپورٹڈ کھجوریں کیسے خرید سکتا ہے؟کیا آٹے ، چینی اور بجلی سکینڈل کے بعد کھجوروں کی درآمد کا سکینڈل بھی تیار کیا جارہا ہے ؟

چیرمین یوٹیلٹی سٹور ز کارپوریشن ذوالقرنین خان خود کھجور کے کاروبار اور پیکجنگ کی صنعت سےوابستہ ہیں ، اُن پر الزام ہے کہ ٹینڈر مبینہ طور پر انہیں فائدہ پہنچانے کیلئے دیا گیا ہے ؟پروگرام کے میزبان کے مطابق یہ ایک بڑا سیکنڈل ہے ، جس کی حکومت کو تحقیقات کرنا ہوں گی۔

اس ٹینڈر کے حوالے سے جہاں اینکر کی جانب سے کئی اور سوال اُٹھائے گئے وہیں چیئرمین یوٹیلیٹی ذوالقرنین علی خان  ٹینڈر سے ہی بے خبر نکلے۔